Testament Of Love | Nasir Hussain Bukhari Will DurantWe gladly introduce Nasir Hussain Bukhari, an esteemed educationist, political activist, analyst, and short story writer, to you. In his book, Testament of Love, Bukhari brings forth a collection of captivating stories that delve into themes such as the Dr suppression of women, the plight of the impoverished, the power of love, and the impact of globalization. From the very first story to the last, readers will find themselves engrossed in the
Dil Say Niklay Hain Jo Lafaz / Farhat Ishtiaq
یہ عرب کے دور جاہلیت (قبلِ اسلام) کے مشہور، بلند پایہ شاعروں کی فکرِ رسا، اور زورِ طبع کی دین ہیں
is remembered as much for his death by execution as for his extraordinary life
Khayal E Yaar | Sumaira Hameed
Zakhmo Ki Diary | Sabir Chaudary
شیطان کا تصور تمام تہذیبوں، قدیم و جدید مذاہب، ہمارے ادب، مصوری، شاعری، حتی کہ فلسفہ اور سائنس میں بھی سرائیت کیا ہوا ہے۔ لیکن اس کی بہترین تفہیم صوفیا نے فراہم کی ہے۔ وہ خدا یعنی نیکی کی طرح شیطان یعنی برائی کو بھی انسان کی ذات کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنی ذات میں چھپی ہوئی برائی اور تحریصات پر قابو پانا ہی انسانیت کی اصل منزل ہے۔ نفسیات اور سائنس نے بھی یہی بات ذرا محتلف انداز میں کہی
Sultan Jalal-ud-Deen Khawarzam Shah | Sheikh Muhammad Hayat
صباحت مشتاق نے اپنے مقالے میں ان تمام ادوار کی اسلوبی خصوصیات کا فنی تجزیہ کیا ہے اور مختلف افسانہ نگاروں کے یہاں اس کے فنی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ اردو افسانے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مقالہ بہت سے نئے گوشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ مقالہ کی زبان بڑی رواں اور اس کا تحقیق و تنقیدی معیار بہت عمدہ ہے۔ اس مقالے کی اشاعت سے اردو افسانے کے نئے معیار اور نئے اسالیب سے آشنائی ہوگی۔
ان کا جیون بھٹکے ہوئے انسانوں کو صحیح راستہ دکھاتا اور بتلاتا ہے کہ انسان کو اس مریادا کے اندر رہنا چاہیے۔ اس گھور کل یُگ میں تو رامائن ہی ایک ایسا جہاز ہے جو انسان کو اس بھو ساگر سے اتار سکتا ہے۔ اس میں دھرم نیتی، راج نیتی، بھائی بھائی کا پریم، پتی پتنی کی محبت، ماتا پِتا کے متعلق اولاد کا فرض، ناری دھرم، مِتروں کا آپس میں سلوک وغیرہ موضوعات پر کتھا کے پرسنگ سے سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے، رامائن کو پڑھ کر اگر اس کی سکھشاؤں پر ہم چلیں اور اپنے جیون کو اس کے مطابق بنا لیں تو بلا شبہ عبادت آج سورگ بن جائے۔ یہاں کا ایک ایک آدمی دیوتا مانا جائے۔ آپ رامائن کے واقعات پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کیسی تہذیبی اور تمدنی معیار کے مالک تھے۔
احمد سلیم نے گہری حقیق کے ذریعے سیف کی زندگی کے دور کو اجاگر کیا ہے۔ اپنے نقطہ نظر کو جا کر کرانے کے لیے انھوں نے متعلقہ تظیموں کی قراردادوں اور سرکار کی مد بھی لی ہے۔ احمد سلیم نے سیف خالد کی سوشلسٹ cause کے ساتھ نظریاتی وفاداری کی سی کو بھی نمایاں کیا ہے اور سیف کی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کیا ہے جس کے ذریعے مودہ ریاستی جبر کے ذریعے دبائی جانے والی جد و جہد کی جگہ مزاحمت کی نئی شکلوں کو تلاش : کرنا جانتے تھے۔ اس طرح سیف خالد کی زندگی کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کرتے وئے اس سلیم نے بائیں بازو کی چار دہائیوں 1980-1950 کی سیاسی تاریخ بھی بیان کی ہے جب سر کال کے لیے ممکن نہ تھا کہ بائیں بازو پر پابندیوں اور جبر کے بغیر وہ کئے بنیادی اور جمہوری حقوق کی پامالی کا سوچ بھی سکتے۔
Jahon Morton
Quran Ka Matloob Insan / Molana Waheed UD Deen